• Contact Us
  • About Us
اتوار, 14 جون 2026
فرمان الہی
نماز کے اوقات
بانی / ایڈیٹرانچیف : شاہنواز خان
پبلشر: شہباز خان
Raees ul Akhbar - The Daily Newspaper
  • صفحہ اول
  • انٹر نیشنل
  • پاکستان
  • اسلام آباد
  • تعلیم
  • سیاست
  • شوبز
  • سپورٹس
  • موسم / ما حولیات
  • کاروبار
  • کالمز
  • مزید
    • دلچسپ
    • ٹیکنالوجی
    • کرائم
    • صحت
  • ای نيوز پیپر
No Result
View All Result
Raees ul Akhbar - The Daily Newspaper
  • صفحہ اول
  • انٹر نیشنل
  • پاکستان
  • اسلام آباد
  • تعلیم
  • سیاست
  • شوبز
  • سپورٹس
  • موسم / ما حولیات
  • کاروبار
  • کالمز
  • مزید
    • دلچسپ
    • ٹیکنالوجی
    • کرائم
    • صحت
  • ای نيوز پیپر
No Result
View All Result
Raees ul Akhbar - The Daily Newspaper
No Result
View All Result

صرف 2 ہزار بچوں کو ضرورت، لیکن ڈبے کے دودھ پر سالانہ اربوں روپے خرچ! ماہرین کا ہوش اڑا دینے والا انکشاف

رئیس الاخبار نیوز by رئیس الاخبار نیوز
اگست 3, 2025
in صحت
پاکستان میں ڈبے کے دودھ کے غیر ضروری استعمال پر ماہرین کی تشویش

فارمولا دودھ کے خلاف ماہرین صحت کا انتباہ: ماں کے دودھ کو فروغ دینے پر زور

594
SHARES
3.3k
VIEWS
Share on WhatsAppShare on FacebookShare on Twitter

ماہرین صحت نے انکشاف کیا ہے کہ ڈبے کا دودھ یا فارمولا ملک دراصل صرف اُن بچوں کی ضرورت ہے جنہیں ماں کا دودھ کسی بھی وجہ سے دستیاب نہیں ہوتا، جیسے پیدائش کے فوراً بعد ماں کا انتقال یا شدید بیماری

پاکستان میں ہر سال اربوں روپے کے فارمولا دودھ اور تیار شدہ بچوں کی خوراک استعمال کی جا رہی ہے، جو ماہرین کے مطابق نہ صرف غیر ضروری بلکہ بچوں کی صحت کے لیے خطرناک بھی ثابت ہو سکتی ہے۔

ڈبے کے دودھ کی حقیقی ضرورت کتنی؟

یہ بھی پڑھیے

ماہرین کی تنبیہ سرد موسم میں ہارٹ اٹیک کا خطرہ بڑھ جاتا ہے احتیاط ضروری

ملک گیر پولیو مہم 2025: 15 تا 21 دسمبر تک 4.5 کروڑ بچوں کی ویکسینیشن، مکمل تفصیلات

نیند اور جسمانی وزن میں کمی کا حیرت انگیز تعلق

پاکستان میں سالانہ تقریباً 60 لاکھ بچے پیدا ہوتے ہیں، لیکن ان میں سے صرف دو ہزار سے بھی کم ایسے بچے ہوتے ہیں جنہیں واقعی متبادل دودھ کی طبی طور پر ضرورت ہوتی ہے۔ یہ وہ بچے ہوتے ہیں جن کی مائیں زچگی کے دوران انتقال کر جاتی ہیں، شدید بیماری کا شکار ہوتی ہیں یا نایاب جینیاتی و میٹابولک بیماریوں میں مبتلا ہوتی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ فارمولا دودھ کو عام بچوں کے لیے متبادل خوراک کے طور پر فروغ دینا نہ صرف سائنسی بنیادوں پر غلط ہے بلکہ اخلاقی طور پر بھی ناقابل قبول ہے۔ ماں کا دودھ وہ قدرتی نعمت ہے جو بچے کی نشوونما، مدافعتی نظام اور ذہنی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

مارکیٹنگ یا صحت؟

پاکستان میں فارمولا دودھ کی سالانہ فروخت 110 ارب روپے سے تجاوز کر چکی ہے۔ سات بڑی بین الاقوامی کمپنیاں اس مارکیٹ پر قابض ہیں، جو نہ صرف پرکشش تشہیری مہموں، اشتہارات، اور ہیلتھ ورکرز کو دیے جانے والے مراعات کے ذریعے ماؤں کو گمراہ کر رہی ہیں بلکہ قانون سازی کے خلاف بھی سرگرم ہیں۔

پروفیسر ذوالفقار بھٹہ، پروفیسر جمال رضا اور پروفیسر فائزہ جہاں جیسے عالمی سطح پر معروف ماہرین نے اس بات پر شدید تشویش ظاہر کی ہے کہ یہ کمپنیاں پاکستان میں ماں کے دودھ کے کلچر کو ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

قانون سازی اور اس کی مخالفت

سندھ حکومت نے 2023 میں "ماں کے دودھ کے فروغ اور بچوں کی غذائی تحفظ کا قانون” منظور کیا، جو جنوبی ایشیا میں بچوں کی غذائیت سے متعلق سب سے جامع قانون سمجھا جا رہا ہے۔ اس قانون کے تحت:

فارمولا دودھ کی اسپتالوں میں تشہیر پر مکمل پابندی ہے۔

ہیلتھ ورکرز کو تحائف دینے کی ممانعت ہے۔

بغیر ڈاکٹر کے نسخے کے 36 ماہ سے کم عمر بچوں کو ڈبے کا دودھ دینے پر پابندی ہے۔

تاہم، فارمولا کمپنیوں نے اس قانون کی شدید مخالفت کی ہے۔ انہوں نے اسے سائنس کے خلاف قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ڈبے کا دودھ ایک دوا کے بجائے فوڈ پروڈکٹ قرار دیا جائے تاکہ اس کی نگرانی سخت ریگولیٹری اداروں کی بجائے صوبائی فوڈ اتھارٹیز کے سپرد ہو جائے، جہاں نگرانی نسبتاً کمزور ہوتی ہے۔

قومی سطح پر قانون سازی میں رکاوٹ

وفاقی سطح پر بھی ایک بل سینیٹ سے منظور ہو چکا ہے جس میں عالمی ادارہ صحت کے ضابطوں کے مطابق فارمولا دودھ کی فروخت اور تشہیر کو ریگولیٹ کرنے کی شقیں موجود ہیں۔ تاہم، قومی اسمبلی میں یہ بل فارمولہ کمپنیوں کے دباؤ کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہے۔ ماہرین اس تاخیر کو عوامی صحت کے لیے خطرناک قرار دیتے ہیں۔

بچوں کی صحت پر اثرات

عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق، پاکستان میں نوزائیدہ بچوں کی اموات کی تقریباً 50 فیصد وجہ ناقص یا ناکافی دودھ پلانا ہے۔ خاص طور پر ڈبے کا دودھ اسہال، نمونیا اور دیگر جان لیوا بیماریوں کی بڑی وجہ بنتا ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق ہر سال پاکستان میں تقریباً ایک لاکھ نوزائیدہ بچے ان بیماریوں کے باعث موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں، جن کی بڑی وجہ ڈبے کا دودھ ہے۔

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ فارمولا دودھ بچوں کے لیے مکمل غذا نہیں ہے۔ اس میں وہ تمام مدافعتی اجزاء، انزائمز، اور غذائی اجزات موجود نہیں ہوتے جو ماں کے دودھ میں فطری طور پر پائے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ:

فارمولا دودھ کی تیاری میں معمولی سی غلطی بچوں کے لیے خطرناک ہو سکتی ہے۔

اس میں صفائی کا خاص خیال نہ رکھا جائے تو بچے سنگین انفیکشن کا شکار ہو سکتے ہیں۔

فارمولا دودھ ہر بچے کی انفرادی ضرورت کے مطابق نہیں ہوتا، جب کہ ماں کا دودھ وقت کے ساتھ بچے کی ضروریات کے مطابق تبدیل ہوتا رہتا ہے۔

ماں کا دودھ: قدرت کا تحفہ

ماں کا دودھ نہ صرف بچے کی جسمانی و ذہنی نشوونما میں مددگار ہوتا ہے بلکہ اس سے بچے کا مدافعتی نظام مضبوط ہوتا ہے، وہ بیماریوں سے لڑنے کے قابل بنتا ہے، اور مستقبل میں دماغی صحت بھی بہتر رہتی ہے۔ اس کے علاوہ، ماں اور بچے کے درمیان محبت اور تعلق کا ایک مضبوط رشتہ قائم ہوتا ہے جو اس کی نفسیاتی نشوونما کے لیے ضروری ہے۔

معیشت پر اثرات

ماہرین کا کہنا ہے کہ ماں کا دودھ نہ پلانے کی وجہ سے پاکستان کو ہر سال تقریباً 2.8 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہوتا ہے۔ اس میں بچوں کی بیماریوں کا بوجھ، علاج کے اخراجات، اسکول کی کارکردگی میں کمی اور والدین کی کمائی پر منفی اثرات شامل ہیں۔

حل کیا ہے؟

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ فارمولا دودھ پر مکمل پابندی لگانے کے بجائے اسے سخت ضابطوں کے تحت استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔ صرف ان بچوں کے لیے جو ماں کے دودھ سے محروم ہوں، فارمولا دودھ کو ڈاکٹر کے نسخے پر دستیاب ہونا چاہیے۔

ساتھ ہی:

زچگی کی چھٹیوں کو بڑھایا جائے۔

کام کرنے والی خواتین کے لیے دودھ پلانے کی سہولتیں دی جائیں۔

عوامی آگاہی مہمات کے ذریعے ماں کے دودھ کی اہمیت اجاگر کی جائے۔

اسپتالوں میں فارمولا دودھ کی تشہیر پر مکمل پابندی عائد کی جائے۔

پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں فارمولا دودھ کا بلا ضرورت استعمال نہ صرف معصوم جانوں کے لیے خطرناک ہے بلکہ ملک کی معیشت اور صحت عامہ کے لیے بھی ایک بڑا بوجھ بنتا جا رہا ہے۔ ماں کا دودھ ایک قدرتی، محفوظ اور مکمل غذا ہے جس کا کوئی نعم البدل ممکن نہیں۔

لہٰذا، ضروری ہے کہ حکومت، طبی ادارے، میڈیا اور والدین مل کر ماں کے دودھ کے فروغ کے لیے متحد ہوں اور ایسے ہر اقدام کو روکا جائے جو ماؤں کو اس فطری نعمت سے دور کر رہا ہے۔

Tags: WHOپاکستانڈبہ_دودھزچگیصحتصحت_عامہفارمولا_دودھماں_اور_بچہماں_کا_دودھنوزائیدہ_بچے
Previous Post

روس زلزلہ اور آتش فشاں 2025: کمچٹکا میں 600 سال بعد لاوا کا اخراج، سونامی وارننگ جاری

Next Post

‫CSS 2026 کا شیڈول جاری: امتحانات 4 فروری سے شروع ہوں گے‬

رئیس الاخبار نیوز

رئیس الاخبار نیوز

متعلقہ خبریں

سرد موسم میں ہارٹ اٹیک کا خطرہ — ٹھنڈی ہوا اور دل کی صحت
صحت

ماہرین کی تنبیہ سرد موسم میں ہارٹ اٹیک کا خطرہ بڑھ جاتا ہے احتیاط ضروری

by رئیس الاخبار نیوز
دسمبر 11, 2025
ملک گیر پولیو مہم میں اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے ضرور پلوائیں
صحت

ملک گیر پولیو مہم 2025: 15 تا 21 دسمبر تک 4.5 کروڑ بچوں کی ویکسینیشن، مکمل تفصیلات

by رئیس الاخبار نیوز
دسمبر 8, 2025
نیند اور جسمانی وزن میں کمی کے تعلق پر مبنی تحقیق کی تصویر
صحت

نیند اور جسمانی وزن میں کمی کا حیرت انگیز تعلق

by رئیس الاخبار نیوز
دسمبر 2, 2025
الٹرا پروسیسڈ خوراک سے شوگر کے خطرے
صحت

الٹرا پروسیسڈ خوراک سے شوگر کا خطرہ: نوجوانوں میں پری ذیابیطس کے بڑھتے ہوئے امکانات

by رئیس الاخبار نیوز
نومبر 30, 2025
پھیپھڑوں کے کینسر کی وجہ بتانے والی نئی طبی تحقیق
صحت

غذائی عادات بھی پھیپھڑوں کے کینسر کی وجہ نئی تحقیق نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

by رئیس الاخبار نیوز
نومبر 26, 2025
ایلو ویرا کے فوائد کے لیے استعمال ہونے والا تازہ ایلو ویرا جیل
صحت

جلد کے مسائل کا حل ایلو ویرا کے فوائد کے حیرت انگیز اثرات سامنے آگئے

by رئیس الاخبار نیوز
نومبر 25, 2025
لاہور میں ڈینگی اموات کے بعد پریشان شہریوں کی نمائندہ تصویر
صحت

لاہور میں ڈینگی اموات کی تصدیق تین مریض زندگی کی بازی ہار گئے

by رئیس الاخبار نیوز
نومبر 24, 2025
Next Post
سی ایس ایس امتحان کی تیاری میں مصروف نوجوان امیدوار 2026

‫CSS 2026 کا شیڈول جاری: امتحانات 4 فروری سے شروع ہوں گے‬

Comments 1

  1. پنگ بیک: گوجرانوالہ مضر صحت کھانےسے 4 بچوں کی موت کی تصدیق
E-paper

آج کی مقبول خبریں

  • چین میں دریائے یانگسی کی آبی حیات کی بحالی، 10 سالہ ماہی گیری پابندی کے نتائج

    دریائے یانگسی 10 سالہ ماہی گیری پابندی — چین کے شاندار نتائج سامنے آگئے

    586 shares
    Share 234 Tweet 147
  • لندن ہائی کورٹ کے حکم پر سوشل میڈیا پر بریگیڈیئر راشد نصیر سے یوٹیوبرعادل راجہ کی باقاعدہ معافی

    586 shares
    Share 234 Tweet 147
  • افغانستان میں موسیقی پر پابندی: طالبان نے درجنوں آلات ضبط کر کے نذر آتش کر دیے

    586 shares
    Share 234 Tweet 147
  • فیض حمید سزا ادارے کا اندرونی معاملہ ہے، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا

    586 shares
    Share 234 Tweet 147
  • کبریٰ خان کی ڈانس ویڈیو نے مداحوں کو دیوانہ بنا دیا

    586 shares
    Share 234 Tweet 147
logo_new_2_white

پاکستان اور دنیا بھر سے خبریں فراہم کرنے والا معروف بین الاقوامی اردو اخبار قائم کیا گیا، معتبر صحافت کے لیے قابل اعتماد۔

اہم لنکس

  • اسلام آباد
  • صحت
  • موسم / ما حولیات

رابطہ کریں

Lower Ground Floor, Plaza No. 80, Street No. 34 & 35, I&T Centre, Sector G-10/1, Islamabad.

  • info@old.raeesulakhbar.com
  • +92 51 613 2231
  • 24/7 سروس

Copyrights 2025 © Raees Ul Akhbar

No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • انٹر نیشنل
  • پاکستان
  • اسلام آباد
  • تعلیم
  • سیاست
  • شوبز
  • سپورٹس
  • موسم / ما حولیات
  • کاروبار
  • کالمز
  • مزید
    • دلچسپ
    • ٹیکنالوجی
    • کرائم
    • صحت
  • ای نيوز پیپر

Copyrights 2025 © Raees Ul Akhbar