• Contact Us
  • About Us
ہفتہ, 10 اکتوبر 2026
فرمان الہی
نماز کے اوقات
بانی / ایڈیٹرانچیف : شاہنواز خان
پبلشر: شہباز خان
Raees ul Akhbar - The Daily Newspaper
  • صفحہ اول
  • انٹر نیشنل
  • پاکستان
  • اسلام آباد
  • تعلیم
  • سیاست
  • شوبز
  • سپورٹس
  • موسم / ما حولیات
  • کاروبار
  • کالمز
  • مزید
    • دلچسپ
    • ٹیکنالوجی
    • کرائم
    • صحت
  • ای نيوز پیپر
No Result
View All Result
Raees ul Akhbar - The Daily Newspaper
  • صفحہ اول
  • انٹر نیشنل
  • پاکستان
  • اسلام آباد
  • تعلیم
  • سیاست
  • شوبز
  • سپورٹس
  • موسم / ما حولیات
  • کاروبار
  • کالمز
  • مزید
    • دلچسپ
    • ٹیکنالوجی
    • کرائم
    • صحت
  • ای نيوز پیپر
No Result
View All Result
Raees ul Akhbar - The Daily Newspaper
No Result
View All Result

غیر قانونی مہاجرین برطانوی قوانین کا مذاق اڑاتے ہیں: شبانہ محمود

رئیس الاخبار نیوز by رئیس الاخبار نیوز
ستمبر 18, 2025
in انٹر نیشنل
غیر قانونی مہاجرین

شبانہ محمود نے غیر قانونی مہاجرین کو برطانوی قوانین کا مذاق اڑانے پر کڑی تنقید کا نشانہ بنایا

590
SHARES
3.3k
VIEWS
Share on WhatsAppShare on FacebookShare on Twitter

شبانہ محمود کا سخت مؤقف: غیر قانونی مہاجرین قوانین کا استحصال کر رہے ہیں

غیر قانونی مہاجرین کا چیلنج

برطانیہ میں غیر قانونی مہاجرین ایک بڑھتا ہوا مسئلہ ہیں، جو نہ صرف حکومتی پالیسیوں بلکہ ملکی قوانین کے استحکام کو بھی چیلنج کر رہے ہیں۔ برطانوی وزیر داخلہ شبانہ محمود نے کہا ہے کہ غیر قانونی مہاجرین برطانوی قوانین کا مذاق اڑاتے ہیں۔ ان کے مطابق، یہ مہاجرین اکثر جدید غلامی یا انسانی حقوق کے دعووں کا سہارا لے کر اپنی ملک بدری کو روکتے ہیں، جو کہ نہ صرف قانونی نظام کا غلط استعمال ہے بلکہ ایک قابل مذمت عمل بھی ہے۔ اس مضمون میں ہم اس ایشو کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالیں گے اور شبانہ محمود کے بیانات کے تناظر میں غیر قانونی مہاجرین کے رویوں کا جائزہ لیں گے۔

غیر قانونی مہاجرین کی حکمت عملی

شبانہ محمود نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ غیر قانونی مہاجرین اکثر اپنی ملک بدری سے بچنے کے لیے قانونی حربے استعمال کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ لوگ اچانک جدید غلامی کا شکار ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، جو کہ برطانوی قوانین کی سخاوت اور شفافیت کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔ ان دعووں کے ذریعے مہاجرین نہ صرف اپنی ملک بدری کو روکتے ہیں بلکہ حکومتی پالیسیوں جیسے کہ "ون ان، ون آؤٹ” کو بھی چیلنج کرتے ہیں۔ یہ پالیسی اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ غیر قانونی طور پر برطانیہ میں داخل ہونے والوں کو فوری طور پر واپس بھیجا جائے، لیکن قانونی چیلنجز اس عمل کو پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

دریائے یانگسی 10 سالہ ماہی گیری پابندی — چین کے شاندار نتائج سامنے آگئے

چین پرچون شعبے میں اختراع 15 واں 5 سالہ منصوبہ 2026–2030

افغانستان میں موسیقی پر پابندی: طالبان نے درجنوں آلات ضبط کر کے نذر آتش کر دیے

غیر قانونی مہاجرین کی جانب سے پیش کیے جانے والے یہ دعوے اکثر انسانی حقوق کے قوانین یا جدید غلامی کے ایکٹ کے تحت کیے جاتے ہیں۔ شبانہ محمود کے مطابق، یہ دعوے زیادہ تر جھوٹے یا بے بنیاد ہوتے ہیں، جن کا مقصد صرف وقت ضائع کرنا اور ملک بدری سے بچنا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسی حرکتیں برطانوی عوام کے مفادات کے خلاف ہیں اور ان سے نمٹنے کے لیے سخت اقدامات کی ضرورت ہے۔

برطانوی پالیسیوں پر اثرات

غیر قانونی مہاجرین کی جانب سے قانونی چیلنجز کی وجہ سے برطانوی حکومت کی پالیسیوں پر گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ خاص طور پر "ون ان، ون آؤٹ” پالیسی، جو غیر قانونی مہاجرین کو فوری طور پر واپس بھیجنے کے لیے بنائی گئی تھی، کو مسلسل قانونی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ شیڈو ہوم سیکریٹری کرس فلپ نے اس حوالے سے شبانہ محمود کو خبردار کیا تھا کہ فرانس کے ساتھ واپسی کے معاہدے کو آخری لمحات میں قانونی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ غیر قانونی مہاجرین کی جانب سے قانونی نظام کا غلط استعمال ایک منظم حکمت عملی کا حصہ ہو سکتا ہے۔

شبانہ محمود نے اس صورتحال پر اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ ہر قدم پر ان حربوں کا مقابلہ کریں گی۔ ان کا کہنا ہے کہ غیر قانونی مہاجرین کی جانب سے جھوٹے دعووں کے ذریعے قانونی نظام کو کمزور کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ عوامی مفادات کا تحفظ ان کی اولین ترجیح ہے اور وہ اسے یقینی بنائیں گی۔

جدید غلامی کے دعووں کا تجزیہ

جدید غلامی کے دعوے غیر قانونی مہاجرین کی جانب سے ایک عام حربہ بن گیا ہے۔ شبانہ محمود کے مطابق، یہ دعوے اکثر اس وقت سامنے آتے ہیں جب مہاجرین کی ملک بدری کا عمل شروع ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ دعوے نہ صرف جھوٹے ہوتے ہیں بلکہ برطانوی نظام کی شفافیت اور سخاوت کا غلط فائدہ اٹھاتے ہیں۔ جدید غلامی کا ایکٹ برطانیہ میں ان لوگوں کے تحفظ کے لیے بنایا گیا تھا جو واقعی انسانی اسمگلنگ یا استحصال کا شکار ہوتے ہیں، لیکن غیر قانونی مہاجرین اس قانون کا غلط استعمال کر رہے ہیں۔

یہ دعوے قانونی عمل کو طوالت دیتے ہیں، کیونکہ عدالتوں کو ہر دعوے کی چھان بین کرنی پڑتی ہے۔ اس دوران غیر قانونی مہاجرین کو ملک میں رہنے کی اجازت مل جاتی ہے، جو کہ حکومتی وسائل پر بوجھ ڈالتی ہے۔ شبانہ محمود نے اس عمل کو برطانوی عوام کے ساتھ دھوکہ قرار دیا اور کہا کہ اس سے نہ صرف قانونی نظام کمزور ہوتا ہے بلکہ عوام کا اعتماد بھی متاثر ہوتا ہے۔

فرانس کے ساتھ معاہدہ اور چیلنجز

فرانس کے ساتھ واپسی کا معاہدہ برطانیہ کی غیر قانونی مہاجرین سے نمٹنے کی پالیسی کا اہم حصہ ہے۔ اس معاہدے کے تحت، برطانیہ میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے والوں کو فوری طور پر فرانس واپس بھیجا جا سکتا ہے۔ تاہم، شیڈو ہوم سیکریٹری کرس فلپ نے خبردار کیا تھا کہ اس معاہدے کو قانونی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ غیر قانونی مہاجرین کی جانب سے انسانی حقوق یا جدید غلامی کے دعووں کی وجہ سے یہ معاہدہ خطرے میں پڑ سکتا ہے۔

شبانہ محمود نے اس حوالے سے کہا کہ وہ ہر ممکن کوشش کریں گی کہ اس معاہدے کو کامیاب بنایا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ غیر قانونی مہاجرین کی جانب سے قانونی حربوں کے باوجود، وہ اس معاہدے کو ناکام نہیں ہونے دیں گی۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ برطانوی قوانین کی پاسداری کو یقینی بنایا جائے گا اور غیر قانونی مہاجرین کو اس کا مذاق اڑانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

حکومتی اقدامات اور مستقبل کا لائحہ عمل

شبانہ محمود نے غیر قانونی مہاجرین کے خلاف سخت اقدامات اٹھانے کا عندیہ دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ہر اس حربے کا مقابلہ کریں گی جو قانونی نظام کو کمزور کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیر قانونی مہاجرین کی جانب سے جھوٹے دعووں کو روکنے کے لیے نئے قوانین متعارف کرائے جا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، عدالتوں میں ان دعووں کی چھان بین کے عمل کو تیز کرنے کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

حکومت کی جانب سے غیر قانونی مہاجرین کے خلاف سخت پالیسی اپنانے کا مقصد نہ صرف قانونی نظام کی ساکھ کو بحال کرنا ہے بلکہ عوام کے اعتماد کو بھی مضبوط کرنا ہے۔ شبانہ محمود نے کہا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں گی کہ برطانوی عوام کے مفادات کا تحفظ کیا جائے اور غیر قانونی مہاجرین کو اس کی خلاف ورزی کی اجازت نہ دی جائے۔

عوامی ردعمل اور تنقید

غیر قانونی مہاجرین کے حوالے سے شبانہ محمود کے بیانات پر عوامی ردعمل ملاجلا رہا ہے۔ کچھ لوگوں نے ان کے سخت موقف کی حمایت کی ہے، جبکہ کچھ نے اسے انسانی حقوق کے منافی قرار دیا ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ جدید غلامی کے دعووں کو مکمل طور پر مسترد کرنا درست نہیں، کیونکہ کچھ مہاجرین واقعی استحصال کا شکار ہو سکتے ہیں۔ تاہم، شبانہ محمود کا موقف ہے کہ جھوٹے دعووں کی وجہ سے اصل متاثرین کے حقوق کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔

عوام کی جانب سے یہ مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے کہ غیر قانونی مہاجرین کے خلاف پالیسیوں کو مزید شفاف بنایا جائے۔ شبانہ محمود نے اس حوالے سے کہا کہ وہ عوامی مفادات کو ترجیح دیں گی اور اس بات کو یقینی بنائیں گی کہ قانونی نظام کا غلط استعمال نہ ہو۔

غیر قانونی مہاجرین اور معاشرتی اثرات

غیر قانونی مہاجرین کی بڑھتی ہوئی تعداد برطانوی معاشرے پر بھی اثرات مرتب کر رہی ہے۔ یہ نہ صرف حکومتی وسائل پر بوجھ ڈالتی ہے بلکہ مقامی آبادی کے لیے روزگار اور رہائش کے مواقع کو بھی متاثر کرتی ہے۔ شبانہ محمود نے کہا کہ غیر قانونی مہاجرین کی وجہ سے معاشرتی ہم آہنگی کو بھی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ قانونی طور پر برطانیہ میں رہنے والوں کے حقوق کا تحفظ کیا جائے گا۔

غیر قانونی مہاجرین کی جانب سے جھوٹے دعووں کی وجہ سے قانونی نظام پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ عدالتوں میں مقدمات کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، جو کہ نہ صرف وقت طلب ہے بلکہ اخراجات میں بھی اضافہ کر رہا ہے۔ شبانہ محمود نے اس حوالے سے کہا کہ وہ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے نئے اقدامات متعارف کرائیں گی۔

غیر قانونی مہاجرین کا مسئلہ برطانیہ کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ شبانہ محمود کے مطابق، یہ مہاجرین نہ صرف برطانوی قوانین کا مذاق اڑاتے ہیں بلکہ حکومتی پالیسیوں کو بھی چیلنج کرتے ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ ہر اس حربے کا مقابلہ کریں گی جو قانونی نظام کو کمزور کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ غیر قانونی مہاجرین کے خلاف سخت پالیسیوں کے ذریعے، وہ عوامی مفادات کے تحفظ کو یقینی بنائیں گی۔

برطانوی ہوم سیکرٹری شبانہ محمود انتباہ، پناہ گزین پالیسی پر سخت پیغام

برطانوی ہوم سیکرٹری شبانہ محمود انتباہ پناہ گزینوں کی واپسی پر
برطانوی ہوم سیکرٹری شبانہ محمود کا پناہ گزینوں کی واپسی پر سخت پیغام
Tags: انسانی حقوقبرطانوی قوانینجدید غلامیشبانہ محمودغیر قانونی مہاجرینفرانس معاہدہقانونی چیلنجزملک بدریون ان ون آؤٹ
Previous Post

بنت حوا کی بے توقیری -آسمان گرجے گا۔ سیلاب آئینگے۔ بستیاں الٹ دی جائینگی

Next Post

ایک ملک پر حملہ دونوں پر تصور،پاکستان سعودیہ دفاعی معاہدے سے بھارت میں تشویش کی لہر، ردِ عمل بھی آگیا

رئیس الاخبار نیوز

رئیس الاخبار نیوز

متعلقہ خبریں

چین میں دریائے یانگسی کی آبی حیات کی بحالی، 10 سالہ ماہی گیری پابندی کے نتائج
انٹر نیشنل

دریائے یانگسی 10 سالہ ماہی گیری پابندی — چین کے شاندار نتائج سامنے آگئے

by رئیس الاخبار نیوز
دسمبر 11, 2025
چین کا 5 سالہ منصوبہ—پرچون شعبے میں اختراعی ترقی
انٹر نیشنل

چین پرچون شعبے میں اختراع 15 واں 5 سالہ منصوبہ 2026–2030

by رئیس الاخبار نیوز
دسمبر 11, 2025
افغانستان میں موسیقی پر پابندی
انٹر نیشنل

افغانستان میں موسیقی پر پابندی: طالبان نے درجنوں آلات ضبط کر کے نذر آتش کر دیے

by رئیس الاخبار نیوز
دسمبر 11, 2025
ماریا کورینا ماچادو اوسلو کی بالکونی میں حامیوں سے خطاب کرتی ہوئی
انٹر نیشنل

ماریا کورینا ماچادو ایک سال بعد دوبارہ منظر عام پر

by رئیس الاخبار نیوز
دسمبر 11, 2025
تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان سرحدی جھڑپوں کا تازہ منظر
انٹر نیشنل

تھائی لینڈ کمبوڈیا جھڑپیں شدت اختیار کر گئیں؛ جنگ بندی ایک بار پھر ٹوٹ گئی

by رئیس الاخبار نیوز
دسمبر 9, 2025
جاپان میں 7.5 شدت کا زلزلہ، سونامی وارننگ واپس لے لی گئی
انٹر نیشنل

جاپان میں 7.5 شدت کا زلزلہ، سونامی وارننگ واپس لے لی گئی، 30 افراد زخمی

by رئیس الاخبار نیوز
دسمبر 9, 2025
بگ باس 19 کے فاتح گورَو کھنّا ٹرافی کے ساتھ
انٹر نیشنل

بگ باس 19 کا فاتح گورَو کھنّا ٹرافی، 50 لاکھ روپے اور نئی کار کے ساتھ جیت

by رئیس الاخبار نیوز
دسمبر 8, 2025
Next Post
پاکستان سعودیہ دفاعی معاہدے , بھارت میں تشویش کی لہر

ایک ملک پر حملہ دونوں پر تصور،پاکستان سعودیہ دفاعی معاہدے سے بھارت میں تشویش کی لہر، ردِ عمل بھی آگیا

No e-paper available.

آج کی مقبول خبریں

  • چین میں دریائے یانگسی کی آبی حیات کی بحالی، 10 سالہ ماہی گیری پابندی کے نتائج

    دریائے یانگسی 10 سالہ ماہی گیری پابندی — چین کے شاندار نتائج سامنے آگئے

    586 shares
    Share 234 Tweet 147
  • لندن ہائی کورٹ کے حکم پر سوشل میڈیا پر بریگیڈیئر راشد نصیر سے یوٹیوبرعادل راجہ کی باقاعدہ معافی

    586 shares
    Share 234 Tweet 147
  • افغانستان میں موسیقی پر پابندی: طالبان نے درجنوں آلات ضبط کر کے نذر آتش کر دیے

    586 shares
    Share 234 Tweet 147
  • فیض حمید سزا ادارے کا اندرونی معاملہ ہے، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا

    586 shares
    Share 234 Tweet 147
  • کبریٰ خان کی ڈانس ویڈیو نے مداحوں کو دیوانہ بنا دیا

    586 shares
    Share 234 Tweet 147
logo_new_2_white

پاکستان اور دنیا بھر سے خبریں فراہم کرنے والا معروف بین الاقوامی اردو اخبار قائم کیا گیا، معتبر صحافت کے لیے قابل اعتماد۔

اہم لنکس

  • اسلام آباد
  • صحت
  • موسم / ما حولیات

رابطہ کریں

Lower Ground Floor, Plaza No. 80, Street No. 34 & 35, I&T Centre, Sector G-10/1, Islamabad.

  • info@old.raeesulakhbar.com
  • +92 51 613 2231
  • 24/7 سروس

Copyrights 2025 © Raees Ul Akhbar

No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • انٹر نیشنل
  • پاکستان
  • اسلام آباد
  • تعلیم
  • سیاست
  • شوبز
  • سپورٹس
  • موسم / ما حولیات
  • کاروبار
  • کالمز
  • مزید
    • دلچسپ
    • ٹیکنالوجی
    • کرائم
    • صحت
  • ای نيوز پیپر

Copyrights 2025 © Raees Ul Akhbar