پرندے گاڑیوں پر بیٹ کیوں کرتے ہیں؟ تحقیق میں دلچسپ انکشافات
صبح جب آپ دفتر جانے کے لیے گھر سے نکلتے ہیں اور اپنی چمکتی دمکتی گاڑی پر پرندوں کی “بیٹ” دیکھتے ہیں تو غصہ اور جھنجھلاہٹ دونوں ایک ساتھ محسوس ہوتی ہیں۔
لیکن کبھی سوچا ہے کہ پرندے گاڑیوں پر بیٹ کیوں کرتے ہیں؟ کیا واقعی ان کی کوئی خاص پسند ناپسند ہوتی ہے؟
اب ایک نئی تحقیق نے اس دلچسپ معما کا جواب دے دیا ہے۔
تحقیق کا پس منظر
گیراج اور گاڑیوں کے شیڈز بنانے والی امریکی کمپنی ایلن فیکٹری آؤٹ لیٹ (Allen Factory Outlet) نے حال ہی میں ایک تحقیق کی، جس کا مقصد یہ جاننا تھا کہ پرندے گاڑیوں پر بیٹ کیوں کرتے ہیں اور وہ کن رنگوں یا برانڈز کی گاڑیوں کو زیادہ نشانہ بناتے ہیں۔
اس تحقیق میں امریکا بھر کے ایک ہزار ڈرائیورز سے سروے کیا گیا تاکہ ان کے تجربات سے یہ سمجھا جا سکے کہ آخر کچھ گاڑیاں پرندوں کے "حملوں” کا زیادہ شکار کیوں بنتی ہیں۔
پرندے گاڑیوں پر بیٹ کیوں کرتے ہیں؟ — رنگوں کا کردار
تحقیق میں یہ دلچسپ انکشاف سامنے آیا کہ پرندے گاڑیوں پر بیٹ کیوں کرتے ہیں، اس کی ایک بڑی وجہ گاڑیوں کے رنگ ہیں۔
مطالعے کے مطابق براؤن، سرخ اور سیاہ رنگ والی گاڑیاں سب سے زیادہ پرندوں کی بیٹ سے متاثر ہوتی ہیں۔
اس کے برعکس سفید، سلور اور گرے گاڑیوں پر پرندوں کا “حملہ” نسبتاً کم ہوتا ہے۔
ماہرین کے مطابق پرندے رنگوں کو انسانوں سے مختلف انداز میں دیکھتے ہیں۔
ان کی آنکھوں میں الٹرا وائلٹ (UV) روشنی دیکھنے کی صلاحیت ہوتی ہے، جس کی وجہ سے بعض رنگ ان کی نظروں میں زیادہ نمایاں نظر آتے ہیں۔
یہی وہ گاڑیاں ہوتی ہیں جنہیں وہ “ٹوائلٹ زون” سمجھ لیتے ہیں۔
یوں سادہ الفاظ میں، رنگ جتنا نمایاں ہوگا، پرندوں کی بیٹ کا امکان اتنا ہی زیادہ ہوگا۔
برانڈز اور ماڈلز کا فرق — کون سی گاڑیاں زیادہ متاثر ہوتی ہیں
تحقیق کے مطابق صرف رنگ ہی نہیں بلکہ گاڑیوں کے برانڈز اور اقسام بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پرندے گاڑیوں پر بیٹ کیوں کرتے ہیں، اس کی ایک اور وجہ گاڑیوں کی شکل و جسامت ہے۔
مطالعے میں یہ نتیجہ سامنے آیا کہ ٹیسلا، ڈاج، پک اپ ٹرک اور SUV گاڑیاں سب سے زیادہ نشانہ بنتی ہیں۔
ممکنہ وجہ یہ ہے کہ ان گاڑیوں کی سطح بڑی اور چمکدار ہوتی ہے، جو سورج کی روشنی میں پرندوں کے لیے زیادہ نمایاں نظر آتی ہیں۔
اس کے برعکس چھوٹی اور مدھم رنگوں والی کاریں نسبتاً محفوظ رہتی ہیں۔
سروے کے نتائج — ڈرائیورز کی دلچسپ آراء
تحقیق میں شامل 29 فیصد ڈرائیورز کا کہنا تھا کہ پرندے جان بوجھ کر ان کی گاڑیوں پر بیٹ کرتے ہیں۔
ان کا ماننا ہے کہ پرندے کسی وجہ سے مخصوص گاڑیوں کو ہدف بناتے ہیں۔
کچھ نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ شاید پرندے “مہنگی گاڑیوں” سے حسد کرتے ہیں، جبکہ بعض نے کہا کہ یہ محض اتفاق نہیں بلکہ ایک فطری رجحان ہے۔
لیکن سائنس دانوں کے مطابق پرندے گاڑیوں پر بیٹ کیوں کرتے ہیں، اس کا تعلق حسد سے نہیں بلکہ فطرت سے ہے۔
پرندے عموماً وہ جگہیں پسند کرتے ہیں جو انہیں محفوظ، اونچی اور نمایاں لگتی ہیں،
اور چمکدار گاڑیاں انہیں ایسی جگہ لگتی ہیں جہاں وہ تھوڑی دیر بیٹھ کر یا اڑان بھرنے سے پہلے “ہلکا پھلکا” ہو سکتے ہیں۔
مقام کا اثر — کہاں پارک کی گئی گاڑیاں زیادہ متاثر ہوتی ہیں
تحقیق میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ پارکنگ کا مقام اس بات پر گہرا اثر ڈالتا ہے کہ پرندے گاڑیوں پر بیٹ کیوں کرتے ہیں۔
جو گاڑیاں درختوں، بجلی کی تاروں یا کھلے آسمان کے نیچے پارک کی جاتی ہیں،
وہ زیادہ تر پرندوں کے نشانے پر آتی ہیں۔
درختوں پر بیٹھے پرندے اکثر خوراک کے بعد وہیں سے اپنا فضلہ خارج کرتے ہیں،
اور اگر نیچے گاڑی کھڑی ہو تو وہ براہِ راست نشانہ بنتی ہے۔
پرندے گاڑیوں پر بیٹ کیوں کرتے ہیں؟ — سائنسی وضاحت
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ پرندوں کے دماغ میں "بیت” کرنے کا عمل غیر ارادی ہوتا ہے۔
یعنی وہ اڑان کے دوران یا کسی جگہ بیٹھے ہوئے بغیر سوچے سمجھے ایسا کرتے ہیں۔
لیکن پھر بھی سوال باقی رہتا ہے کہ پرندے گاڑیوں پر بیٹ کیوں کرتے ہیں جب انہیں آس پاس اور بھی جگہیں میسر ہوتی ہیں؟
اس کا جواب ان کی بینائی اور ماحولیاتی عادات میں چھپا ہے۔
گاڑیاں اکثر سورج کی روشنی منعکس کرتی ہیں، جس سے وہ پرندوں کے لیے زیادہ نمایاں نظر آتی ہیں۔
نیز، گاڑیوں کی سطح اکثر گرم ہوتی ہے، جو پرندوں کے لیے ایک "توجہ کھینچنے والا” عنصر بن جاتی ہے۔
یوں وہ لاشعوری طور پر ان کے اوپر بیٹھتے ہیں اور نتیجتاً بیٹ ہو جاتی ہے۔
پرندے گاڑیوں پر بیٹ کیوں کرتے ہیں؟ — شہری علاقوں میں زیادہ مسئلہ
تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ شہری علاقوں میں پرندے گاڑیوں پر بیٹ کیوں کرتے ہیں، اس کی شرح دیہی علاقوں سے کہیں زیادہ ہے۔
وجہ یہ ہے کہ شہروں میں درخت کم اور گاڑیاں زیادہ ہوتی ہیں۔
پرندے بجلی کے کھمبوں، بل بورڈز یا اونچی عمارتوں کے کناروں پر بیٹھتے ہیں اور ان کے نیچے عموماً گاڑیاں موجود ہوتی ہیں۔
پرندوں کی نفسیات — کیا وہ واقعی “چنتے” ہیں؟
کچھ ماہرین نے دلچسپ نکتہ پیش کیا کہ پرندے گاڑیوں پر بیٹ کیوں کرتے ہیں،
یہ ان کی سماجی یا علاقائی عادات سے بھی منسلک ہے۔
پرندے عموماً اپنی مخصوص جگہیں بناتے ہیں جہاں وہ اکثر آتے جاتے رہتے ہیں۔
اگر کوئی گاڑی بار بار انہی مقامات پر کھڑی کی جائے تو وہ ان کے لیے “مانوس ہدف” بن جاتی ہے۔
نقصان اور احتیاطی تدابیر
ماہرین کے مطابق پرندوں کی بیٹ صرف بدصورت داغ ہی نہیں چھوڑتی بلکہ
یہ گاڑی کے پینٹ اور کلر کو نقصان بھی پہنچاتی ہے۔
پرندوں کے فضلے میں موجود تیزابیت رنگ کو خراب کر سکتی ہے، خاص طور پر اگر اسے دیر تک صاف نہ کیا جائے۔
اسی لیے مشورہ دیا جاتا ہے کہ اگر آپ جاننا چاہتے ہیں کہ پرندے گاڑیوں پر بیٹ کیوں کرتے ہیں،
تو اس کے ساتھ یہ بھی سمجھیں کہ گاڑی کو شیڈ یا گیراج میں پارک کرنا سب سے بہتر حل ہے۔
سرگودھا میں وائٹ ہاؤس پاکستان میں تعمیر، نیا سیاحتی مرکز
آخرکار، تحقیق سے یہ بات واضح ہوئی کہ پرندے گاڑیوں پر بیٹ کیوں کرتے ہیں،
اس کی وجوہات رنگ، مقام، روشنی اور گاڑیوں کی ساخت میں چھپی ہیں۔
یہ عمل نہ تو اتفاقی ہے، نہ ہی دشمنی کا اظہار — بلکہ یہ فطرت کا ایک سادہ مظہر ہے۔
لہٰذا اگر اگلی بار آپ کی گاڑی پر بیٹ نظر آئے تو غصہ کرنے کے بجائے یاد رکھیے کہ
یہ پرندوں کی نظر میں “چمکتی ہوئی دنیا” کا حصہ ہے۔




