• Contact Us
  • About Us
جمعہ, 17 اپریل 2026
فرمان الہی
نماز کے اوقات
بانی / ایڈیٹرانچیف : شاہنواز خان
پبلشر: شہباز خان
Raees ul Akhbar - The Daily Newspaper
  • صفحہ اول
  • انٹر نیشنل
  • پاکستان
  • اسلام آباد
  • تعلیم
  • سیاست
  • شوبز
  • سپورٹس
  • موسم / ما حولیات
  • کاروبار
  • کالمز
  • مزید
    • دلچسپ
    • ٹیکنالوجی
    • کرائم
    • صحت
  • ای نيوز پیپر
No Result
View All Result
Raees ul Akhbar - The Daily Newspaper
  • صفحہ اول
  • انٹر نیشنل
  • پاکستان
  • اسلام آباد
  • تعلیم
  • سیاست
  • شوبز
  • سپورٹس
  • موسم / ما حولیات
  • کاروبار
  • کالمز
  • مزید
    • دلچسپ
    • ٹیکنالوجی
    • کرائم
    • صحت
  • ای نيوز پیپر
No Result
View All Result
Raees ul Akhbar - The Daily Newspaper
No Result
View All Result

سبز کچھوؤں کی افزائش اور سمندری حیات کی بقا

رئیس الاخبار نیوز by رئیس الاخبار نیوز
ستمبر 28, 2025
in دلچسپ
سبز کچھوؤں کی افزائش

سندھ وائلڈ لائف کی نگرانی میں ننھے کچھوے سمندر کی طرف جاتے ہوئے

591
SHARES
3.3k
VIEWS
Share on WhatsAppShare on FacebookShare on Twitter

سبز کچھوؤں کی افزائش کا سیزن شروع، سندھ وائلڈ لائف کی کاوشیں

سبز کچھوؤں کی اہمیت

سبز کچھوے (Green Turtles) بحری ماحولیاتی نظام کا ایک اہم حصہ ہیں۔ یہ سمندری مخلوقات ساحلی علاقوں میں ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔ پاکستان کے ساحلی علاقوں، خصوصاً کراچی کے ہاکس بے اور سینڈز پٹ، سبز کچھوؤں کے افزائش کے لیے مشہور ہیں۔ 2025-26 کے افزائش سیزن کے آغاز کے ساتھ، سندھ وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ نے 104 ننھے سبز کچھوؤں کو سمندر میں چھوڑ کر ایک نئی امید کو جنم دیا ہے۔

سبز کچھوؤں کی افزائش کا عمل

سبز کچھوؤں کی افزائش کا سیزن ہر سال اگست کے وسط سے شروع ہوتا ہے اور فروری کے آخر تک جاری رہتا ہے۔ اس دوران مادہ سبز کچھوے ساحل پر آتی ہیں اور رات کے وقت گہرے سکوت میں انڈے دینے کا عمل مکمل کرتی ہیں۔ مادہ کچھوا اپنی پچھلی ٹانگوں کی مدد سے 3 سے 3.5 فٹ گہرا گڑھا کھودتی ہے، جس میں وہ 100 سے 200 انڈے دیتی ہے۔ یہ انڈے 45 سے 60 دنوں میں ننھے کچھوؤں کی شکل میں نکلتے ہیں۔ سندھ وائلڈ لائف کے مطابق، اب تک 5500 انڈوں کو گھونسلوں میں محفوظ کیا گیا ہے، جن سے مزید سبز کچھوؤں کی تعداد میں اضافہ متوقع ہے۔

یہ بھی پڑھیے

سردی میں جلد کی حفاظت: نرم اور چمکدار جلد کے لیے مکمل گائیڈ

ماریا کورینا ماچادو ایک سال بعد دوبارہ منظر عام پر

قدیم رومی تاریخ اور دیومالا: سال کے 12 مہینوں کے نام کیسے پڑے؟ ایک مکمل داستان

گھونسلے بنانے کا عمل

مادہ سبز کچھوے ساحل پر گھونسلے بنانے کے لیے خاص مقامات کا انتخاب کرتی ہیں۔ وہ ریت کے نرم حصوں کو ترجیح دیتی ہیں جہاں انڈوں کی حفاظت ممکن ہو۔ گھونسلے بنانے کا عمل رات کے وقت ہوتا ہے تاکہ شکاریوں اور انسانی مداخلت سے بچا جا سکے۔ اس عمل کے دوران مادہ کچھوا اپنے جسم کو ریت سے ڈھانپ لیتی ہے، جو اسے تحفظ فراہم کرتا ہے۔

سندھ وائلڈ لائف کی کوششیں

سندھ وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ سبز کچھوؤں کے تحفظ کے لیے سرگرم عمل ہے۔ محکمہ جنگلی حیات کے انچارج میرین ٹرٹل، اشفاق علی میمن کے مطابق، گزشتہ رات 104 ننھے سبز کچھوؤں کو سمندر میں چھوڑا گیا۔ یہ ننھے کچھوے اپنی زندگی کا سفر شروع کرنے کے لیے تیار ہیں۔ محکمہ گھونسلوں کی حفاظت، انڈوں کی نگرانی، اور ننھے کچھوؤں کو سمندر تک پہنچانے کے لیے خصوصی اقدامات کر رہا ہے۔ ان کوششوں سے نہ صرف سبز کچھوؤں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے بلکہ ساحلی ماحولیات کا تحفظ بھی یقینی بنایا جا رہا ہے۔

سبز کچھوؤں کو درپیش خطرات

ماہرین کے مطابق، دو دہائیوں قبل پاکستان کے ساحلی علاقوں میں سمندری کچھوؤں کی سات اقسام پائی جاتی تھیں، لیکن اب صرف دو اقسام باقی ہیں۔ اولیو ریڈلی (زیتونی کچھوے) اب مکمل طور پر ناپید ہو چکے ہیں۔ 2010 کے بعد سے کراچی کے ساحلوں پر کوئی زندہ زیتونی مادہ کچھوا نظر نہیں آیا، البتہ مردہ حالت میں ان کی موجودگی رپورٹ ہوئی ہے۔ سبز کچھوؤں کو بھی متعدد خطرات کا سامنا ہے، جن میں شامل ہیں:

  • سمندری آلودگی: پلاسٹک اور دیگر کیمیائی مادوں کی آلودگی سبز کچھوؤں کی افزائش اور بقا کے لیے خطرہ ہے۔
  • تجارتی سرگرمیاں: ماہی گیروں کے جالوں میں پھنسنے سے کچھوؤں کی اموات ہوتی ہیں۔
  • تفریحی عوامل: ساحلی علاقوں میں سیاحت اور انسانی سرگرمیاں گھونسلوں کو نقصان پہنچاتی ہیں۔

اولیو ریڈلی کی ناپیدی: ایک تشویشناک رجحان

ماہرین حیوانات و ماحولیات اولیو ریڈلی کچھوؤں کی ناپیدی پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ یہ کچھوے ایک وقت میں کراچی کے سینڈز پٹ اور دیگر ساحلی علاقوں میں عام تھے، لیکن اب ان کی عدم موجودگی ایک بڑا سوال اٹھاتی ہے۔ ماہرین اس بات کی تحقیق کر رہے ہیں کہ آخر کیا وجوہات ہیں جن کی بنا پر اولیو ریڈلی نے ان ساحلوں سے منہ موڑ لیا۔ ممکنہ وجوہات میں ماحولیاتی تبدیلیاں، سمندری درجہ حرارت میں اضافہ، اور خوراک کی کمی شامل ہو سکتی ہیں۔

سبز کچھوؤں کے افزائشی مقامات

سبز کچھوے نہ صرف کراچی کے ہاکس بے اور سینڈز پٹ پر آتے ہیں بلکہ بلوچستان کے ساحلی علاقوں جیسے کہ جیوانی، گوادر، اورماڑہ، پسنی، دھیران، فرنچ بیچ، مبارک ولیج، کیپ ماونزے، اور چرنا جزیرے پر بھی افزائش نسل کے لیے رخ کرتے ہیں۔ یہ مقامات اپنی قدرتی خوبصورتی اور ماحولیاتی اہمیت کے لیے مشہور ہیں۔ تاہم، ان علاقوں میں بھی انسانی سرگرمیوں کی وجہ سے سبز کچھوؤں کے گھونسلوں کو خطرات لاحق ہیں۔

تحفظ کے لیے تجاویز

سبز کچھوؤں کے تحفظ کے لیے ماہرین اور مقامی کمیونٹیز کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ کچھ اہم تجاویز درج ذیل ہیں:

  • ساحلی صفائی: ساحلوں کو پلاسٹک اور دیگر آلودگی سے پاک رکھنا ضروری ہے۔
  • آگاہی مہمات: مقامی ماہی گیروں اور سیاحوں کو سبز کچھوؤں کی اہمیت سے آگاہ کیا جائے۔
  • گھونسلوں کی حفاظت: افزائش کے موسم میں گھونسلوں کی نگرانی کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی جائیں۔
  • قانونی تحفظ: غیر قانونی شکار اور ماہی گیری کے جالوں پر پابندی عائد کی جائے۔

مستقبل کے امکانات

سبز کچھوؤں کی افزائش کے سیزن 2025-26 کے آغاز نے سمندری تحفظ کے لیے نئی امیدیں جگائی ہیں۔ سندھ وائلڈ لائف کی کوششوں سے نہ صرف ننھے کچھوؤں کو سمندر میں چھوڑا جا رہا ہے بلکہ ان کی بقا کے لیے مستقل نگرانی بھی کی جا رہی ہے۔ اگر یہ کوششیں جاری رہیں تو سبز کچھوؤں کی تعداد میں اضافہ ممکن ہے، جو کہ سمندری ماحولیات کے لیے ایک مثبت اشارہ ہوگا۔

ننھے کچھوؤں کا سمندری سفر

ہر سال ننھے سبز کچھوے اپنے گھونسلوں سے نکل کر سمندر کی طرف اپنا سفر شروع کرتے ہیں۔ یہ سفر خطرات سے بھرپور ہوتا ہے، کیونکہ شکاری پرندے اور سمندری مخلوقات ان کے لیے خطرہ بنتے ہیں۔ سندھ وائلڈ لائف کی ٹیمیں ان ننھے کچھوؤں کو سمندر تک محفوظ طریقے سے پہنچانے کے لیے رات بھر کام کرتی ہیں۔ اس سال چھوڑے گئے 104 ننھے کچھوؤں نے اپنا یہ سفر کامیابی سے شروع کیا ہے۔

خلیج الاسکا میں 2 سمندروں کا ملاپ: حیران کن سائنسی حقیقت

سبز کچھوؤں کا تحفظ پاکستان کے ساحلی ماحولیاتی نظام کے لیے ناگزیر ہے۔ سندھ وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ کی کوششیں قابل تحسین ہیں، لیکن اس مقصد کے حصول کے لیے معاشرے کے ہر طبقے کی شمولیت ضروری ہے۔ اگر ہم مل کر کام کریں تو سبز کچھوؤں کی نسل کو ناپید ہونے سے بچایا جا سکتا ہے، اور ہمارے سمندر ایک بار پھر زندگی سے بھرپور ہو سکتے ہیں۔

Tags: Green Turtlesسبز کچھوؤں کی افزائشسبز کچھوےسمندری آلودگیسمندری حیاتسندھ وائلڈ لائفسینڈز پٹنایاب جاندار
Previous Post

وزیراعظم کا جنرل اسمبلی میں خطاب جاندار، لیاقت بلوچ کا بیان

Next Post

پاکستان کی1 ٹریلین ڈالر معیشت: کیا یہ ممکن ہے؟

رئیس الاخبار نیوز

رئیس الاخبار نیوز

متعلقہ خبریں

سردی میں جلد کی حفاظت
دلچسپ

سردی میں جلد کی حفاظت: نرم اور چمکدار جلد کے لیے مکمل گائیڈ

by رئیس الاخبار نیوز
دسمبر 11, 2025
ماریا کورینا ماچادو اوسلو کی بالکونی میں حامیوں سے خطاب کرتی ہوئی
انٹر نیشنل

ماریا کورینا ماچادو ایک سال بعد دوبارہ منظر عام پر

by رئیس الاخبار نیوز
دسمبر 11, 2025
12 مہینوں کے نام کی تاریخی جڑیں
دلچسپ

قدیم رومی تاریخ اور دیومالا: سال کے 12 مہینوں کے نام کیسے پڑے؟ ایک مکمل داستان

by رئیس الاخبار نیوز
دسمبر 9, 2025
مسلز کی تعمیر آپ کو جسمانی طور پر مضبوط بناتی ہے
دلچسپ

صرف وزن کم کرنا کافی نہیں: مضبوطی اور مسلز کی تعمیر کیوں ضروری ہے؟

by رئیس الاخبار نیوز
دسمبر 9, 2025
دنیا کا بلند ترین ہوٹل دبئی مرینا کی شاندار عمارت
دلچسپ

دنیا کا بلند ترین ہوٹل دبئی میں عالمی ریکارڈ کے ساتھ کھل گیا

by رئیس الاخبار نیوز
دسمبر 9, 2025
ٹورو ٹورو نیشنل پارک، جہاں یہ ڈائنوسار کے قدموں کے نشانات ملے
دلچسپ

بولیویا میں تھیراپوڈز ڈائنوسار کے 16,600 سے زائد قدموں کے نشانات دریافت

by رئیس الاخبار نیوز
دسمبر 7, 2025
سونے کا ہیرے جڑا انڈا چوری کا واقعہ نیوزی لینڈ
دلچسپ

نیوزی لینڈ میں سونے کا ہیرے جڑا انڈا نگلنے کی حیران کن چوری

by رئیس الاخبار نیوز
دسمبر 5, 2025
Next Post
پاکستان کی1 ٹریلین ڈالر معیشت

پاکستان کی1 ٹریلین ڈالر معیشت: کیا یہ ممکن ہے؟

E-paper

آج کی مقبول خبریں

  • چین میں دریائے یانگسی کی آبی حیات کی بحالی، 10 سالہ ماہی گیری پابندی کے نتائج

    دریائے یانگسی 10 سالہ ماہی گیری پابندی — چین کے شاندار نتائج سامنے آگئے

    586 shares
    Share 234 Tweet 147
  • لندن ہائی کورٹ کے حکم پر سوشل میڈیا پر بریگیڈیئر راشد نصیر سے یوٹیوبرعادل راجہ کی باقاعدہ معافی

    586 shares
    Share 234 Tweet 147
  • افغانستان میں موسیقی پر پابندی: طالبان نے درجنوں آلات ضبط کر کے نذر آتش کر دیے

    586 shares
    Share 234 Tweet 147
  • فیض حمید سزا ادارے کا اندرونی معاملہ ہے، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا

    586 shares
    Share 234 Tweet 147
  • کبریٰ خان کی ڈانس ویڈیو نے مداحوں کو دیوانہ بنا دیا

    586 shares
    Share 234 Tweet 147
logo_new_2_white

پاکستان اور دنیا بھر سے خبریں فراہم کرنے والا معروف بین الاقوامی اردو اخبار قائم کیا گیا، معتبر صحافت کے لیے قابل اعتماد۔

اہم لنکس

  • اسلام آباد
  • صحت
  • موسم / ما حولیات

رابطہ کریں

Lower Ground Floor, Plaza No. 80, Street No. 34 & 35, I&T Centre, Sector G-10/1, Islamabad.

  • info@old.raeesulakhbar.com
  • +92 51 613 2231
  • 24/7 سروس

Copyrights 2025 © Raees Ul Akhbar

No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • انٹر نیشنل
  • پاکستان
  • اسلام آباد
  • تعلیم
  • سیاست
  • شوبز
  • سپورٹس
  • موسم / ما حولیات
  • کاروبار
  • کالمز
  • مزید
    • دلچسپ
    • ٹیکنالوجی
    • کرائم
    • صحت
  • ای نيوز پیپر

Copyrights 2025 © Raees Ul Akhbar