• Contact Us
  • About Us
ہفتہ, 11 اپریل 2026
فرمان الہی
نماز کے اوقات
بانی / ایڈیٹرانچیف : شاہنواز خان
پبلشر: شہباز خان
Raees ul Akhbar - The Daily Newspaper
  • صفحہ اول
  • انٹر نیشنل
  • پاکستان
  • اسلام آباد
  • تعلیم
  • سیاست
  • شوبز
  • سپورٹس
  • موسم / ما حولیات
  • کاروبار
  • کالمز
  • مزید
    • دلچسپ
    • ٹیکنالوجی
    • کرائم
    • صحت
  • ای نيوز پیپر
No Result
View All Result
Raees ul Akhbar - The Daily Newspaper
  • صفحہ اول
  • انٹر نیشنل
  • پاکستان
  • اسلام آباد
  • تعلیم
  • سیاست
  • شوبز
  • سپورٹس
  • موسم / ما حولیات
  • کاروبار
  • کالمز
  • مزید
    • دلچسپ
    • ٹیکنالوجی
    • کرائم
    • صحت
  • ای نيوز پیپر
No Result
View All Result
Raees ul Akhbar - The Daily Newspaper
No Result
View All Result

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کےخلاف ہائیکورٹ کے 5 ججز کا سپریم کورٹ سے رجوع

رئیس الاخبار نیوز by رئیس الاخبار نیوز
ستمبر 19, 2025
in تازه ترین, اسلام آباد, پاکستان
اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع

اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز نے چیف جسٹس کے اختیارات پر اعتراض اٹھایا اور سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی

601
SHARES
3.3k
VIEWS
Share on WhatsAppShare on FacebookShare on Twitter

ہائی کورٹ کے 5 ججز کا اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کے اختیارات کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع

اسلام آباد ( رئیس الاخبار) :- اسلام آباد ہائی کورٹ کے پانچ سینئر ججوں نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کے اختیارات اور انتظامی اقدامات کو چیلنج کرتے ہوئے سپریم کورٹ آف پاکستان سے رجوع کر لیا ہے۔ یہ اقدام ملک کی عدالتی تاریخ میں ایک غیر معمولی اور اہم موڑ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ پہلی بار ہائی کورٹ کے اندرونی انتظامی ڈھانچے اور اختیارات پر براہِ راست سوال اٹھایا گیا ہے۔

کون کون سے جج درخواست گزار ہیں؟

سپریم کورٹ میں درخواستیں دائر کرنے والے جج صاحبان میں:

یہ بھی پڑھیے

لندن ہائی کورٹ کے حکم پر سوشل میڈیا پر بریگیڈیئر راشد نصیر سے یوٹیوبرعادل راجہ کی باقاعدہ معافی

فیض حمید سزا ادارے کا اندرونی معاملہ ہے، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا

دو روزہ سرکاری دورے پر وزیرِ اعظم شہباز شریف ترکمانستان روانہ، جہاں اعلیٰ سطحی بین الاقوامی فورم میں شرکت کریں گے

جسٹس محسن اختر کیانی

جسٹس بابر ستار

جسٹس طارق محمود جہانگیری

جسٹس ثمن رفعت

جسٹس اعجاز اسحٰق خان

شامل ہیں۔ اب تک چار ججوں کی درخواستوں کی کاپیاں میڈیا کو موصول ہو چکی ہیں، جبکہ پانچویں کی تفصیلات بھی جلد سامنے آنے کی توقع ہے۔

بنیادی مطالبہ کیا ہے؟

ان تمام درخواستوں میں مشترکہ طور پر سپریم کورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ:

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کے انتظامی اختیارات کو عدالتی اختیارات پر غالب آنے سے روکا جائے۔

بینچوں کی تشکیل اور مقدمات کی منتقلی جیسے معاملات صرف قواعد اور تمام ججوں کی مشاورت سے طے ہوں۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اپنی مرضی سے ججوں کو فہرست سے خارج کرنے یا مقدمات منتقل کرنے کا اختیار استعمال نہ کریں۔

جسٹس بابر ستار نے چیف جسٹس کے خلاف چارج شیٹ دے دی

ماسٹر آف دی روسٹر کا معاملہ

درخواست گزاروں نے واضح مؤقف اختیار کیا کہ ’’ماسٹر آف دی روسٹر‘‘ کا اصول، جس کے تحت چیف جسٹس کو مکمل اختیار ہوتا ہے کہ وہ کس جج کو کون سا مقدمہ دیں، سپریم کورٹ کے فیصلوں میں کالعدم قرار دیا جا چکا ہے۔ اس لیے اس اصول کے تحت یکطرفہ فیصلے اب درست نہیں سمجھے جا سکتے۔

نوٹیفکیشنز اور کمیٹیوں پر اعتراض

درخواستوں میں کہا گیا ہے کہ:

3 فروری اور 15 جولائی کو جاری ہونے والے نوٹیفکیشنز کے ذریعے بنائی گئی انتظامی کمیٹیاں غیر قانونی اور بدنیتی پر مبنی ہیں۔

ان کمیٹیوں کے ذریعے اسلام آباد ہائی کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر رولز 2025 کی منظوری اور نوٹیفکیشن جاری کرنا آئین کے آرٹیکلز 192(1) اور 202 کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

ستمبر میں اس نوٹیفکیشن کی توثیق بھی ’’غیر مؤثر اور کالعدم‘‘ قرار دی جانی چاہیے۔

آئینی نکات پر زور

جج صاحبان نے اپنی درخواستوں میں کئی اہم آئینی نکات پر روشنی ڈالی، جن میں:

آرٹیکل 192(1): ہائی کورٹ کے ڈھانچے اور اختیارات کی وضاحت کرتا ہے۔

آرٹیکل 202: ہائی کورٹ کو اپنے رولز بنانے کا اختیار دیتا ہے، لیکن یہ تمام ججوں کی منظوری سے ہونا چاہیے۔

آرٹیکل 203: ہائی کورٹس کو ماتحت عدلیہ پر مؤثر نگرانی کا پابند کرتا ہے۔

آرٹیکل 199: ہائی کورٹ کو اپنے خلاف رٹ جاری کرنے کا اختیار نہیں دیتا۔

آرٹیکل 209: صرف سپریم جوڈیشل کونسل کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ جج کے طرزِ عمل یا صلاحیت پر سوال اٹھا سکے۔

ڈویژن بینچ کے اختیارات پر اعتراض

درخواست گزاروں نے کہا کہ ہائی کورٹ کا ڈویژن بینچ نہ تو سنگل بینچ کے عبوری فیصلوں پر اپیل سن سکتا ہے اور نہ ہی اسے کسی ماتحت عدالت کی طرح کنٹرول کر سکتا ہے۔ اس مؤقف کے ذریعے جج صاحبان نے عدالتی عمل کی آزادی اور خود مختاری پر زور دیا ہے۔

ایمان مزاری شکایت چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ، انکوائری کمیٹی متحرک

عدلیہ کے اندرونی ڈھانچے پر سوال

ان درخواستوں کے بعد یہ بحث شدت اختیار کر گئی ہے کہ:

کیا اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس یکطرفہ طور پر بینچ تشکیل دے سکتا ہے؟

یا یہ فیصلہ تمام ججوں کی مشاورت اور باقاعدہ قواعد کے ذریعے ہونا چاہیے؟

قانونی ماہرین کے مطابق یہ مقدمہ آئندہ عدلیہ کے اندرونی ڈھانچے اور ججز کے اختیارات کو ازسرِ نو متعین کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔

ممکنہ اثرات

یہ معاملہ نہ صرف اسلام آباد ہائی کورٹ بلکہ پورے عدالتی نظام پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

اگر سپریم کورٹ ججوں کے مؤقف کے حق میں فیصلہ دیتی ہے تو اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کے اختیارات محدود ہو جائیں گے۔

دوسری طرف، اگر درخواستیں مسترد ہو جاتی ہیں تو اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کا اختیار مزید مضبوط تصور ہوگا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کی عمارت کا منظر

تجزیہ

قانونی اور سیاسی حلقے اس پیش رفت کو ’’پاکستان کی عدلیہ میں طاقت کے توازن کی جنگ‘‘ قرار دے رہے ہیں۔

ایک رائے یہ ہے کہ یہ اقدام عدلیہ میں جمہوری طرزِ عمل اور مشاورت کو فروغ دے گا۔

جبکہ دوسری رائے کے مطابق یہ عدلیہ کے اندرونی اختلافات کو مزید نمایاں کر کے ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے پانچ ججوں کی سپریم کورٹ سے رجوع ایک غیر معمولی پیش رفت ہے جو عدلیہ کے اندر طاقت کے توازن، قواعد کی وضاحت اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس (high court chief justice)کے اختیارات کے دائرے کو ازسرِ نو متعین کرنے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ سپریم کورٹ کے آئندہ فیصلے کا اثر نہ صرف ہائی کورٹ بلکہ ملک کے پورے عدالتی نظام پر طویل المیعاد ہوگا۔

بریکنگ نیوز: جسٹس طارق محمود جہانگیری جوڈیشل ورک سے روکنے کا اسلام آباد ہائیکورٹ کے ڈویژن بنچ کا فیصلہ چیلنک کرنے سپریم کورٹ پہنچ گئے، جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس بابر ستار، جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز بھی ہمراہ ہیں pic.twitter.com/70gy8jYTnj

— Ehtsham Kiani (@ehtshamkiani) September 19, 2025
READ MORE FAQS

سوال 1: اسلام آباد ہائی کورٹ کے کون سے ججز نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے؟
جواب: جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس بابر ستار، جسٹس طارق جہانگیری، جسٹس ثمن رفعت اور جسٹس اعجاز اسحٰق خان۔

سوال 2: ججز نے اپنی درخواست میں بنیادی مطالبہ کیا کیا ہے؟
جواب: چیف جسٹس کے انتظامی اختیارات کو محدود کر کے بینچوں کی تشکیل اور مقدمات کی منتقلی کو قواعد اور مشاورت سے طے کرنے کا مطالبہ۔

سوال 3: ’’ماسٹر آف دی روسٹر‘‘ کا اصول کیا ہے اور ججز نے کیوں مخالفت کی؟
جواب: یہ اصول چیف جسٹس کو مکمل اختیار دیتا ہے کہ کون سا مقدمہ کس جج کو دیا جائے، ججز نے مؤقف اپنایا کہ یہ یکطرفہ ہے اور اب ناقابل قبول ہے۔

سوال 4: اس معاملے کے ممکنہ اثرات کیا ہو سکتے ہیں؟
جواب: اگر سپریم کورٹ ججز کے حق میں فیصلہ دیتی ہے تو چیف جسٹس کے اختیارات محدود ہو جائیں گے، بصورت دیگر یہ مزید مضبوط تصور ہوں گے۔

Tags: Chief Justice PowersIslamabad High CourtJudicial IndependenceJustice Babar SattarJustice Ijaz Ishaq KhanJustice Mohsin Akhtar KayaniJustice Saman RafatJustice Tariq Mehmood JahangiriMaster of the RosterSupreme Court Petitionاسلام آباد ہائی کورٹجسٹس اعجاز اسحٰق خانجسٹس بابر ستارجسٹس ثمن رفعتجسٹس طارق جہانگیریجسٹس محسن اختر کیانیچیف جسٹسسپریم کورٹعدالتی بحرانعدلیہ کے اختیاراتماسٹر آف دی روسٹر
Previous Post

سینیٹ کمیٹی میں انکشاف: ڈیٹا پروٹیکشن قانون پاکستان روکنے کیلئے بیرونی دباؤ

Next Post

بھارت بمقابلہ عمان ایشیا کپ 2025 : بھارت نے عمان کو 21 رنز سے شکست دے دی

رئیس الاخبار نیوز

رئیس الاخبار نیوز

متعلقہ خبریں

بریگیڈیئر راشد نصیر سے یوٹیوبرعادل راجہ کی باقاعدہ معافی
تازه ترین

لندن ہائی کورٹ کے حکم پر سوشل میڈیا پر بریگیڈیئر راشد نصیر سے یوٹیوبرعادل راجہ کی باقاعدہ معافی

by رئیس الاخبار نیوز
دسمبر 11, 2025
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی میڈیا سے گفتگو، فیض حمید سزا پر بیان
سیاست

فیض حمید سزا ادارے کا اندرونی معاملہ ہے، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا

by رئیس الاخبار نیوز
دسمبر 11, 2025
دو روزہ سرکاری دورہ پر شہباز شریف ترکمانستان روانہ
تازه ترین

دو روزہ سرکاری دورے پر وزیرِ اعظم شہباز شریف ترکمانستان روانہ، جہاں اعلیٰ سطحی بین الاقوامی فورم میں شرکت کریں گے

by رئیس الاخبار نیوز
دسمبر 11, 2025
ڈاکٹر وردہ قتل کیس پولیس تحقیقات
کرائم

ڈاکٹر وردہ قتل کیس: ملزمان کی 30 لاکھ ادائیگی سے منی لانڈرنگ کا شبہ

by رئیس الاخبار نیوز
دسمبر 11, 2025
امریکا نے پاکستان کے ایف-16 طیاروں کے لیے 686 ملین ڈالر مالیت کی جدید اپ گریڈ کی منظوری دے دی
تازه ترین

امریکا نے پاکستان کے ایف-16 طیاروں کے لیے 686 ملین ڈالر مالیت کی جدید اپ گریڈ کی منظوری دے دی

by رئیس الاخبار نیوز
دسمبر 11, 2025
بنگلہ دیش کا پاکستان کے ساتھ علاقائی اتحاد کا عندیہ
تازه ترین

بنگلہ دیش کا پاکستان کے ساتھ علاقائی اتحاد کا عندیہ، ایسے اتحاد میں شامل ہو سکتے جس میں بھارت کی شمولیت نہ ہو

by رئیس الاخبار نیوز
دسمبر 11, 2025
فیض حمید کورٹ مارشل فیصلہ 14 سال قید بامشقت
اسلام آباد

فیض حمید کورٹ مارشل فیصلہ — 14 سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی

by رئیس الاخبار نیوز
دسمبر 11, 2025
Next Post
بھارت بمقابلہ عمان : عمان کو 21 رنز سے شکست

بھارت بمقابلہ عمان ایشیا کپ 2025 : بھارت نے عمان کو 21 رنز سے شکست دے دی

Comments 1

  1. پنگ بیک: سپریم کورٹ نےاسلام آباد ہائیکورٹ کےججزکی درخواستیں واپس کردی
E-paper

آج کی مقبول خبریں

  • چین میں دریائے یانگسی کی آبی حیات کی بحالی، 10 سالہ ماہی گیری پابندی کے نتائج

    دریائے یانگسی 10 سالہ ماہی گیری پابندی — چین کے شاندار نتائج سامنے آگئے

    586 shares
    Share 234 Tweet 147
  • لندن ہائی کورٹ کے حکم پر سوشل میڈیا پر بریگیڈیئر راشد نصیر سے یوٹیوبرعادل راجہ کی باقاعدہ معافی

    586 shares
    Share 234 Tweet 147
  • افغانستان میں موسیقی پر پابندی: طالبان نے درجنوں آلات ضبط کر کے نذر آتش کر دیے

    586 shares
    Share 234 Tweet 147
  • فیض حمید سزا ادارے کا اندرونی معاملہ ہے، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا

    586 shares
    Share 234 Tweet 147
  • کبریٰ خان کی ڈانس ویڈیو نے مداحوں کو دیوانہ بنا دیا

    586 shares
    Share 234 Tweet 147
logo_new_2_white

پاکستان اور دنیا بھر سے خبریں فراہم کرنے والا معروف بین الاقوامی اردو اخبار قائم کیا گیا، معتبر صحافت کے لیے قابل اعتماد۔

اہم لنکس

  • اسلام آباد
  • صحت
  • موسم / ما حولیات

رابطہ کریں

Lower Ground Floor, Plaza No. 80, Street No. 34 & 35, I&T Centre, Sector G-10/1, Islamabad.

  • info@old.raeesulakhbar.com
  • +92 51 613 2231
  • 24/7 سروس

Copyrights 2025 © Raees Ul Akhbar

No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • انٹر نیشنل
  • پاکستان
  • اسلام آباد
  • تعلیم
  • سیاست
  • شوبز
  • سپورٹس
  • موسم / ما حولیات
  • کاروبار
  • کالمز
  • مزید
    • دلچسپ
    • ٹیکنالوجی
    • کرائم
    • صحت
  • ای نيوز پیپر

Copyrights 2025 © Raees Ul Akhbar