• Contact Us
  • About Us
ہفتہ, 11 اپریل 2026
فرمان الہی
نماز کے اوقات
بانی / ایڈیٹرانچیف : شاہنواز خان
پبلشر: شہباز خان
Raees ul Akhbar - The Daily Newspaper
  • صفحہ اول
  • انٹر نیشنل
  • پاکستان
  • اسلام آباد
  • تعلیم
  • سیاست
  • شوبز
  • سپورٹس
  • موسم / ما حولیات
  • کاروبار
  • کالمز
  • مزید
    • دلچسپ
    • ٹیکنالوجی
    • کرائم
    • صحت
  • ای نيوز پیپر
No Result
View All Result
Raees ul Akhbar - The Daily Newspaper
  • صفحہ اول
  • انٹر نیشنل
  • پاکستان
  • اسلام آباد
  • تعلیم
  • سیاست
  • شوبز
  • سپورٹس
  • موسم / ما حولیات
  • کاروبار
  • کالمز
  • مزید
    • دلچسپ
    • ٹیکنالوجی
    • کرائم
    • صحت
  • ای نيوز پیپر
No Result
View All Result
Raees ul Akhbar - The Daily Newspaper
No Result
View All Result

بلوچستان میں آٹے کا بحران: مہنگائی، بدانتظامی اور حکومتی ناکامی کا انکشاف

رئیس الاخبار نیوز by رئیس الاخبار نیوز
ستمبر 28, 2025
in پاکستان
بلوچستان میں آٹے کے بحران سے متاثر عوام قطاروں میں آٹا خریدتے ہوئے

بلوچستان میں آٹے کی شدید قلت عوام قطاروں میں آٹے کے تھیلے لینے پر مجبور

590
SHARES
3.3k
VIEWS
Share on WhatsAppShare on FacebookShare on Twitter

بلوچستان میں آٹے کا بحران: انتظامی غفلت یا پالیسی کی ناکامی؟

بلوچستان میں آٹے کا سنگین بحران: انتظامی غفلت یا پالیسی کی ناکامی؟بلوچستان ایک بار پھر غذائی بحران کی زد میں ہے۔ اس بار آٹے کی قلت نے عوام کی زندگیوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ صوبے میں آٹے کا بحران شدت اختیار کرچکا ہے، اور یہ محض ایک وقتی قلت نہیں بلکہ بدانتظامی اور ناقص حکومتی فیصلوں کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے۔ جہاں ایک طرف عوام مہنگے داموں آٹا خریدنے پر مجبور ہیں، وہیں دوسری طرف محکمہ خوراک کی جانب سے پالیسی کی سنگین غلطیاں سامنے آ رہی ہیں، جن کے باعث نہ صرف آٹے کی قلت پیدا ہوئی بلکہ قومی خزانے کو بھی اربوں روپے کا نقصان ہوا۔

موجودہ صورتِ حال

یہ بھی پڑھیے

دو روزہ سرکاری دورے پر وزیرِ اعظم شہباز شریف ترکمانستان روانہ، جہاں اعلیٰ سطحی بین الاقوامی فورم میں شرکت کریں گے

امریکا نے پاکستان کے ایف-16 طیاروں کے لیے 686 ملین ڈالر مالیت کی جدید اپ گریڈ کی منظوری دے دی

بنگلہ دیش کا پاکستان کے ساتھ علاقائی اتحاد کا عندیہ، ایسے اتحاد میں شامل ہو سکتے جس میں بھارت کی شمولیت نہ ہو

رپورٹس کے مطابق بلوچستان میں آٹے کی شدید قلت نے ایک بحرانی کیفیت پیدا کر دی ہے۔ صوبے میں آٹے کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے اور گزشتہ تین ہفتوں کے دوران 20 کلو کے آٹے کا تھیلا 2300 روپے تک جا پہنچا ہے۔ یہ اضافہ کم و بیش 40 سے 50 فیصد ہے، جو عام شہری کی قوتِ خرید سے باہر ہو چکا ہے۔

بازاروں میں آٹے کی دستیابی نہایت محدود ہو چکی ہے، اور کئی علاقوں میں آٹا نایاب ہے۔ دکاندار حضرات یا تو آٹا رکھنے سے قاصر ہیں یا منہ مانگی قیمت وصول کر رہے ہیں۔ اس تمام صورتحال کا سب سے زیادہ اثر کم آمدنی والے طبقے پر پڑ رہا ہے، جو پہلے ہی مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں۔

بحران کی وجوہات: ناقص حکمت عملی

بحران کی بنیادی وجہ صوبائی محکمہ خوراک کی انتظامی غفلت اور ناقص منصوبہ بندی قرار دی جا رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق محکمہ خوراک کے پاس رواں سال کے آغاز میں 8 لاکھ بوریاں گندم موجود تھیں، لیکن حیرت انگیز طور پر مارچ اور اپریل کے مہینوں میں نئی گندم کی خریداری نہیں کی گئی۔

مزید تشویشناک بات یہ ہے کہ نہ صرف نئی گندم نہیں خریدی گئی بلکہ پرانے سٹاک کو بھی اونے پونے داموں میں فروخت کر دیا گیا۔ اس فیصلے کے پیچھے جواز یہ پیش کیا گیا کہ سٹاک میں موجود گندم خراب ہو سکتی ہے، لہٰذا اس کو فروخت کرنا ضروری تھا۔

اس فیصلے کے نتیجے میں نہ صرف گودام خالی کر دیے گئے بلکہ محکمہ خوراک کو تقریباً 6 ارب روپے کا نقصان بھی برداشت کرنا پڑا۔ اب صورتحال یہ ہے کہ صوبے کے پاس کوئی وافر گندم سٹاک موجود نہیں، جبکہ نئی خریداری کی تاخیر نے حالات مزید بگاڑ دیے ہیں۔

مہنگائی کی شرح میں کمی کے باوجود عوامی مشکلات برقرار

عوامی ردِعمل اور مشکلات

صوبے کے مختلف شہروں سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق عوام شدید پریشانی کا شکار ہیں۔ کوئٹہ، تربت، خضدار، چمن، ژوب اور دیگر علاقوں میں آٹا یا تو دستیاب نہیں، یا پھر اتنا مہنگا ہو چکا ہے کہ غریب عوام کی پہنچ سے دور ہو چکا ہے۔

ایک شہری، عبدالرزاق، جو کہ کوئٹہ کے نواحی علاقے سے تعلق رکھتے ہیں، کا کہنا ہے:
"ہم روز کماتے ہیں اور روز کھاتے ہیں۔ جب آٹے جیسی بنیادی ضرورت اتنی مہنگی ہو جائے تو ہم بچوں کو کھلائیں یا دوائی لیں؟”

اسی طرح ایک خاتون نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ راشن لینے گئیں تو دکاندار نے کہا کہ آٹا صرف ان لوگوں کو ملے گا جو دیگر اشیاء بھی خریدیں گے، ورنہ دستیاب نہیں۔

سیاسی ردِعمل

حالیہ بحران پر اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن ارکان کا کہنا ہے کہ محکمہ خوراک کی نااہلی نے صوبے کو سنگین بحران میں دھکیل دیا ہے، جس کی ذمہ داری براہِ راست وزیراعلیٰ اور متعلقہ وزراء پر عائد ہوتی ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی، جمعیت علماء اسلام (ف)، اور بلوچستان نیشنل پارٹی سمیت دیگر جماعتوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس تمام صورتحال کی شفاف انکوائری کی جائے اور ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

ماہرین کی رائے

ماہرین معاشیات اور خوراک کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں گندم اور آٹے کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ صرف طلب و رسد کے اصولوں کی بنیاد پر نہیں ہوا، بلکہ یہ بدانتظامی اور منصوبہ بندی کے فقدان کا نتیجہ ہے۔

اگر مارچ اور اپریل میں گندم کی بروقت خریداری کی جاتی تو آج صوبے کو یہ دن نہ دیکھنے پڑتے۔ اس کے علاوہ اگر سٹاک میں موجود گندم کو بہتر طریقے سے محفوظ کیا جاتا تو نہ صرف مالی نقصان سے بچا جا سکتا تھا بلکہ موجودہ قلت سے بھی بچا جا سکتا تھا۔

ممکنہ حل اور اقدامات

موجودہ بحران سے نکلنے کے لیے حکومت بلوچستان کو ہنگامی بنیادوں پر درج ذیل اقدامات کرنے ہوں گے:

فوری درآمد یا خریداری: فوری طور پر دیگر صوبوں یا وفاق سے گندم کی فراہمی کے لیے بات چیت کی جائے، تاکہ آٹے کی قیمتوں کو کنٹرول کیا جا سکے۔

سبسڈی اسکیم: کم آمدنی والے افراد کے لیے سبسڈی پر آٹے کی فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ ان کی مشکلات میں کمی آ سکے۔

ذخیرہ اندوزی کے خلاف کارروائی: آٹے کی مصنوعی قلت پیدا کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے، اور ذخیرہ اندوزوں کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے۔

تحقیقات اور احتساب: اس تمام معاملے کی آزادانہ اور شفاف انکوائری کروائی جائے، اور اگر کسی افسر یا وزیر کی کوتاہی یا کرپشن سامنے آتی ہے تو اسے مثال بنایا جائے۔

آئندہ کی حکمت عملی: گندم کی خرید و فروخت اور سٹاک مینجمنٹ کے لیے واضح پالیسی اور شفاف نظام وضع کیا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے بحران سے بچا جا سکے۔

بلوچستان میں آٹے کا حالیہ بحران ایک لمحۂ فکریہ ہے۔ یہ صرف آٹے کی قلت کا مسئلہ نہیں بلکہ عوام کے بنیادی حقوق، حکومتی شفافیت اور پالیسی سازی کی ناکامی کا مظہر ہے۔ جب تک صوبائی حکومت سنجیدگی سے اصلاحاتی اقدامات نہیں کرتی، عوام کو اس طرح کے بحرانوں کا سامنا رہے گا۔

یہ وقت ہے کہ حکومتی مشینری خوابِ غفلت سے بیدار ہو اور عوامی مشکلات کو اپنی اولین ترجیح بنائے، کیونکہ آٹا صرف ایک جنس نہیں بلکہ ایک بنیادی انسانی ضرورت ہے — اور اس کی عدم دستیابی ایک بڑی انسانی بحران کو جنم دے سکتی ہے۔

چاروں صوبوں کی فلور ملز کا وفاقی حکومت سے مطالبہ، گندم امپورٹ کی اجازت
چاروں صوبوں کی فلور ملز کا بڑا اجلاس، وفاقی حکومت سے گندم امپورٹ کی فوری اجازت کا مطالبہ۔
آٹے کی قیمت
وزیراعلیٰ سندھ نے گندم کے ذخائر کا جائزہ لیتے ہوئے آٹے کی قیمت پر کڑی نظر رکھنے کی ہدایت کی
Tags: آٹے کی قلت پاکستانبلوچستان آٹے کا بحرانبلوچستان حکومت تنقیدبلوچستان میں آٹا مہنگامحکمہ خوراک ناکامی
Previous Post

کوٹ کی آستینوں کے بٹن: ایک تاریخی راز بے نقاب

Next Post

پنجاب کے سیلاب پر سیاست ناقابل قبول ہے: مریم نواز

رئیس الاخبار نیوز

رئیس الاخبار نیوز

متعلقہ خبریں

دو روزہ سرکاری دورہ پر شہباز شریف ترکمانستان روانہ
تازه ترین

دو روزہ سرکاری دورے پر وزیرِ اعظم شہباز شریف ترکمانستان روانہ، جہاں اعلیٰ سطحی بین الاقوامی فورم میں شرکت کریں گے

by رئیس الاخبار نیوز
دسمبر 11, 2025
امریکا نے پاکستان کے ایف-16 طیاروں کے لیے 686 ملین ڈالر مالیت کی جدید اپ گریڈ کی منظوری دے دی
تازه ترین

امریکا نے پاکستان کے ایف-16 طیاروں کے لیے 686 ملین ڈالر مالیت کی جدید اپ گریڈ کی منظوری دے دی

by رئیس الاخبار نیوز
دسمبر 11, 2025
بنگلہ دیش کا پاکستان کے ساتھ علاقائی اتحاد کا عندیہ
تازه ترین

بنگلہ دیش کا پاکستان کے ساتھ علاقائی اتحاد کا عندیہ، ایسے اتحاد میں شامل ہو سکتے جس میں بھارت کی شمولیت نہ ہو

by رئیس الاخبار نیوز
دسمبر 11, 2025
پاکستان کا اقوامِ متحدہ میں انتباہ : افغان دہشت گردی سب سے بڑا خطرہ
بریکنگ نیوز

پاکستان کا اقوامِ متحدہ میں انتباہ: افغان سرزمین سے جنم لینے والی دہشت گردی سب سے بڑا خطرہ قرار

by رئیس الاخبار نیوز
دسمبر 11, 2025
وزیر اعظم شہباز شریف کا قومی علما کنونشن سے خطاب
تازه ترین

وزیر اعظم شہباز شریف کا قومی علما کنونشن سے خطاب: افواج پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا ناقابل برداشت ہے

by رئیس الاخبار نیوز
دسمبر 10, 2025
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر خطاب کرتے ہوئے قومی علماء مشائخ کانفرنس کی تقریب
پاکستان

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا تاریخی خطاب: ریاستِ طیبہ، پاکستان اور تحفظِ حرمین پر واضح مؤقف

by رئیس الاخبار نیوز
دسمبر 10, 2025
لاہور ہائیکورٹ کا بسنت آرڈیننس سے متعلق درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے عدالتی کارروائی کا منظر
تازه ترین

لاہور ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ: بسنت آرڈیننس پر عمل درآمد روکنے کی استدعا مسترد — سیفٹی اقدامات پر رپورٹ طلب

by رئیس الاخبار نیوز
دسمبر 10, 2025
Next Post
پنجاب کے سیلاب پر سیاست

پنجاب کے سیلاب پر سیاست ناقابل قبول ہے: مریم نواز

E-paper

آج کی مقبول خبریں

  • چین میں دریائے یانگسی کی آبی حیات کی بحالی، 10 سالہ ماہی گیری پابندی کے نتائج

    دریائے یانگسی 10 سالہ ماہی گیری پابندی — چین کے شاندار نتائج سامنے آگئے

    586 shares
    Share 234 Tweet 147
  • لندن ہائی کورٹ کے حکم پر سوشل میڈیا پر بریگیڈیئر راشد نصیر سے یوٹیوبرعادل راجہ کی باقاعدہ معافی

    586 shares
    Share 234 Tweet 147
  • افغانستان میں موسیقی پر پابندی: طالبان نے درجنوں آلات ضبط کر کے نذر آتش کر دیے

    586 shares
    Share 234 Tweet 147
  • فیض حمید سزا ادارے کا اندرونی معاملہ ہے، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا

    586 shares
    Share 234 Tweet 147
  • کبریٰ خان کی ڈانس ویڈیو نے مداحوں کو دیوانہ بنا دیا

    586 shares
    Share 234 Tweet 147
logo_new_2_white

پاکستان اور دنیا بھر سے خبریں فراہم کرنے والا معروف بین الاقوامی اردو اخبار قائم کیا گیا، معتبر صحافت کے لیے قابل اعتماد۔

اہم لنکس

  • اسلام آباد
  • صحت
  • موسم / ما حولیات

رابطہ کریں

Lower Ground Floor, Plaza No. 80, Street No. 34 & 35, I&T Centre, Sector G-10/1, Islamabad.

  • info@old.raeesulakhbar.com
  • +92 51 613 2231
  • 24/7 سروس

Copyrights 2025 © Raees Ul Akhbar

No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • انٹر نیشنل
  • پاکستان
  • اسلام آباد
  • تعلیم
  • سیاست
  • شوبز
  • سپورٹس
  • موسم / ما حولیات
  • کاروبار
  • کالمز
  • مزید
    • دلچسپ
    • ٹیکنالوجی
    • کرائم
    • صحت
  • ای نيوز پیپر

Copyrights 2025 © Raees Ul Akhbar